اتوار 13 ستمبر 2026 - 15:41
آج کی ضروریات کا جواب دینے کے لیے فقہ میں خصوصی مہارت ضروری ہے: آیت اللہ رجبی

حوزہ/ آیت اللہ محمود رجبی نے کہا ہے کہ حوزہ علمیہ کی ذمہ داری صرف دینی علوم کی تعلیم دینا نہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر اور لوگوں کو گمراہی سے بچانا بھی ہے۔ آج کی دنیا کی نئی ضرورتوں کا جواب دینے کے لیے فقہ میں تخصص پیدا کرنا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محمود رجبی نے کہا ہے کہ حوزہ علمیہ کی ذمہ داری صرف دینی علوم کی تعلیم دینا نہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر اور لوگوں کو گمراہی سے بچانا بھی ہے۔ آج کی دنیا کی نئی ضرورتوں کا جواب دینے کے لیے فقہ میں تخصص پیدا کرنا ضروری ہے۔

حوزہ علمیہ کے اعلیٰ تعلیمی مرکز برائے تربیتِ مدیر و مدرس کے نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ رجبی نے سورۂ توبہ کی آیتِ نَفْر کو حوزہ علمیہ کی ذمہ داریوں کا اہم منشور قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دین کی گہری سمجھ کے لیے ادبیات، منطق، فلسفہ اور دیگر بنیادی علوم کا درست طور پر سیکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف دین کو سمجھ لینا کافی نہیں بلکہ اسے لوگوں تک صحیح انداز میں پہنچانے کا طریقہ بھی سیکھنا چاہیے۔ مبلغ کو اپنے مخاطب کی ضروریات، ثقافت، فکری سطح اور حالات کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے تاکہ وہ مؤثر انداز میں دینی تعلیمات پہنچا سکے۔

آیت اللہ رجبی نے کہا کہ آیتِ نَفْر کا اصل مقصد معاشرے کی اصلاح اور تعمیر ہے۔ استاد اور مبلغ کو پہلے خود دین کے بارے میں احساسِ ذمہ داری اور خوفِ خدا پیدا کرنا چاہیے، کیونکہ محض معلومات منتقل کرنا اصلاح اور تربیت نہیں ہے۔ انہوں نے استاد کو صرف معلومات دینے والا نہیں بلکہ تربیت کرنے والا قرار دیا۔

انہوں نے تقویٰ کو معاشرے اور فرد کو گمراہی سے بچانے کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقویٰ کی کمی انسان کو فیصلوں میں غلطی، اللہ کی سنتوں کو بھولنے اور غیر اللہ کے خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ قرآن کے مطابق تقویٰ انسان کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے آیت اللہ مصباح یزدی کی دو اہم نصیحتوں کا ذکر کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ عمل اور روزانہ اہل بیت علیہم السلام سے سچا توسل کرنے پر زور دیا۔

آیت اللہ رجبی نے کہا کہ موجودہ دور کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فقہ کو مختلف شعبوں میں تخصص کی طرف لے جانا ضروری ہے۔ ہر شعبے میں ماہر فقیہ ہی اس سے متعلق مسائل کا گہرا اور درست حل پیش کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن انسانی علوم کے انتہائی چھوٹے مسائل تک کے بارے میں رہنمائی رکھتا ہے، لیکن اس سے ان تعلیمات کا استخراج کرنے کے لیے مغربی نظریات اور ان کی بنیادوں کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ صحیح علم اور غلط نظریات کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha